ADMISSION NOTICE (2024-2025) New   ADMISSION 2024-25 MARKS UPDATING LINK New   Notification of Appointment as Assistant Professors New   NPTEL ENROLLMENT DETAILS AND LIST OF COURSES ( JULY- DEC 2024) New   NAAC REACCREDITED WITH A++ CGPA OF 3.51 New   New Programmes started in PWC 2024 New    Patna Women’s College gets remarkable ranking in MDRA – India Today Best Colleges 2023 New  Corona Crusaders College Magazine New   Alumni Association Life Membership/Contribution Form Link New   Patna Women's College is ranked at a rank band of 101 - 150 in the NIRF 2021 Ranking under College category
                 

Enter your keyword

post

kalam e iqbal mein shaheen ka tasawwur

kalam e iqbal mein shaheen ka tasawwur

کلامِ اقبال میں شاہین کا تصور
ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی
صدر شعبہ اردو، پٹنہ ویمنس کالج پٹنہ
موبائل۔8601086280
شاہین کو انگریزی میں FALCON کہا جاتا ہے۔ افریقہ اور یوریشیا میں عُقابوں کی ساٹھ سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ متحدہ امریکہ اور کینڈا میں محض اس کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ وسطی اور جنوبی امریکہ میں مزید نو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ جبکہ اسٹریلیا میں اس کی محض تین قسمیں ہی ملتی ہیں۔ وہ پرندوں کا بادشاہ ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح پرندوں کا راجا شاہین ہے۔ وہ دنیا کا سب سے تیز رفتار پرندہ ہے۔ اس کی رفتار 390 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کی عمر زیادہ سے زیادہ 70 برس اور کم از کم 15 برس ہوتی ہے۔ ویسے اس کی اوسط عمر 25 سال ہوتی ہے۔ شاہین کا وزن 15 کلو تک ہوتا ہے۔ اس کا سائز 58 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ وہ 1300 فٹ یا اس سے بھی بلند پہاڑوں کی بلندی پر رہتا ہے۔
یاد رہے کہ علامہ اقبال کے پورے فکری نظام میں شاہین ایک بنیادی اور مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال نے اسے اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے اور یہ محض شاعرانہ نہیں بلکہ اقبال کی فکرِ عالی میں شاہین کا تصور ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ اقبال نے شاہین کا تصور پشتو کے عظیم شاعر خوشحال خاں خٹک سے لیا ہے جو مغل بادشاہ شاہجہاں اور اورنگ زیب کے زمانے میں مُغلوں کا منصب دار تھا۔ بقول ڈاکٹر یوسف حسین خاں؛
اقبال کو ایسے پرندے راس نہیں آتے جو جمالیاتی ہوتے ہیں حُسن کے حامل ہوتے ہیں اور حرکت کے بجائے سکون پسند ہوتے ہیں۔ اسی وجہ کر ایک موقع پر کہا تھا؛
کر بلبل وطاؤس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ
اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو خیابانوں کی فضا راس نہیں آتی، کیونکہ وہاں جمال ہی جمال ہوتا ہے جلال کا پرتو نہیں۔ اسی لیے تو کہا ہے ؛
خیا بانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ باغوں کی فضاؤں میں بسنے والے افراد نرم ونازک ہوتے ہیں اور وہاں کے مکیں مردانہ صفات کے بجائے معشوقوں کے سے انداز ہوتے ہیں جبکہ شاہین کی زندگی تو جرأت ومردانگی سے عبارت ہے۔
اقبال نے شاہین کا تصور کیوں پیش کیا؟ اس لیے کہ وہ بہت طاقتور ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ بڑی تیز ہوتی ہے۔ وسعت نظری اور دوربینی خدانے اس کو ودیعت کر رکھا ہے۔ بلند پروازی ایسی کہ آسمانوں کی وسعتوں کو چیردے۔ درویشی، قلندری اور بے نیازی کی غیر معمولی اور لائق اتباع صفات سے وہ عبارت ہے، دلیری، جفاکشی، خودداری اور خود اعتمادی بھی اس کی لائق دید ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ جدوجہد شاہین کا دوسرا نام ہے۔ اقبال اس غیرت مند اور جاں باز پرندہ کی طرح نوجوانوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اقبال کی شاعری کو عرفانِ ذات اور جہدوعمل نے لافانی بنادیا ہے۔ آزادی اقبال کو بہت محبوب ہے۔ وہ شاہین کو اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ شاہین کا ایک اہم وصف آزادی بھی ہے۔ غلامی آنکھوں کو بصیرت سے صرف محروم نہیں کرتی بلکہ افکار کو اندھا کردیتی ہے اور جذبہ عمل کو منجمد کردیتی ہے۔ جس کی طرف اقبال نے بزبانِ شاہین یوں اشارہ کیا ہے
؂کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا
یعنی وہ زمین پر بکھرے ہوئے دانے پر گزارہ نہیں کرتا بلکہ اپنا رزق آزاد ہوکر آزاد فضاؤں میں تلاش کرتا ہے۔ پہاڑوں پر بسیرا کرنا بھی آزادی کی طرف مشیر ہے۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
یہ بات صحیح ہے کہ جرمنی میں اقبال نے فلسفہ قوت وزندگی سے فکری اثرات قبول کیا۔ نٹشے سے اسی فکر نے اقبال کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اقبال کا بھی ماننا تھا کہ کچھ کرنے کے لیے قوت درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے تو انھوں نے ابوالعلامعری کی زبان سے یوں کہلوایا؛
؂ ہے جُرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
یہ واضح رہے کہ اقبال کے کلام میں شاہین کے علاوہ بلبل وقمری وغیرہ پرندوں کا بھی ذکر ہے لیکن ان سب کا مقام اقبال کے نزدیک شاہین سے کم تر ہے۔
شاہین کے اندر وہ تمام امتیازی اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک مسلم نوجوان میں ہونا چاہئے۔ پہاڑوں کا شہزادہ شاہین اکیلا اڑتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ نہیں اڑتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کو اعلیٰ اوصاف سے متصف پاتا ہے اور اس طرح برے وصف کے پرندوں سے علاحدہ رہنا پسند کرتا ہے۔ اس طرح مسلم نوجوانوں کو بھی بری صحبت سے پرہیز کرنا ہمیں شاہین سکھاتا ہے۔ وہ دس سے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان بھرتا ہے۔ جس سے مسلم نوجوانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ نہ صرف ہمیں بڑا مقصد نظروں کے سامنے رکھنا چاہئے بلکہ اس کے لیے اپنی سوچ کو بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سوچ اور مقصد کے تعین کے بعد اس کے حصول کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ جس طرح شاہین اپنے مقصد کے تعین کے بعد، ایسی پلاننگ کرتا ہے کہ اس کا کوئی بھی شکار مس نہیں ہوتا۔ اس طرح ہمیں بھی پری پلاننگ کے ساتھ مقصد کے حصول کے لیے تگ ودو کرنا چاہئے۔ وہ دور بین ہوتا ہے۔ اس کی آنکھ انسانی آنکھ کے مقابلے میں دس گنا تیز ہوتی ہے جس کی وجہ کر وہ اپنے شکار کو تین کلو میٹر کی بلندی سے بہ آسانی دیکھ لیتا ہے اور اپنے شکار کو خواہ جو بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے، وہ حاصل کرلیتا ہے۔ اس سے عظیم سبق یہ ملتا ہے کہ مقصد کو تعین کرنے کے بعد، خواہ کتنی مشکلات کیوں نہ اٹھانی پڑے، اس کے حصول سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ کامیابی کی راہ پُرخطر ہوتی ہے بلکہ کانٹوں سے بھری ہوتی ہے۔ اس لیے جب بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا مقابلہ پوری جرأت کے ساتھ کرنا چاہئے۔ جس طرح شاہین طوفان کے وقت اور اونچا اڑتا ہے۔ اسے طوفان کا مقابلہ کرنے میں مزہ آتا ہے۔ یہ ایسا موقع ہوتا ہے جب سارے پرندے اپنے اپنے گھونسلے میں جانا اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہیں اور شاہین اس وقت بادل سے اوپر پرواز کرکے تسلی پاتا ہے۔ جس کی طرف اقبال نے کچھ اس طرح اشارہ کیا ہے ؂
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
شاہین طوفان سے لطف اندوز ہوتا ہے اور طوفان سے مقابلہ کرتا ہے۔ اس طرح نوجوانوں کو بھی پریشانیوں اور آلام ومصائب سے نہ گھبراکر اس سے ڈر کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ شاہین مخالف سمت میں پرواز کرکے طوفان کو گویا چیلنج کرتا ہے۔ دنیا اور دنیا کی زندگی خوشی اور غم دونوں سے عبارت ہے اس لیے اس کو Face کرنا چاہئے نہ کہ پیٹھ دکھاکر بھاگنا چاہئے۔ شاہین ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ اپنے ہم سفر کا انتخاب بھی Test کے بعد کرتا ہے۔ اپنے بچوں کو تربیت دینے کے لیے دس ہزار فٹ کی بلندی سے گرادیتا ہے اور پھر اس سے پہلے خود نیچے آکے اس کو Catch کرلیتا ہے وہ اس طرح اس لیے کرتا ہے تاکہ خطرات کے وقت وہ اس کا جسارت کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ شاہین ویسے تو جسامت میں کرگس کی طرح ہی ہوتا ہے مگر دونوں کا اندازِ فکر جداگانہ ہے۔ کرگس دوسروں کا بچا ہوا کھاتا ہے جبکہ شاہین خود شکار کرکے تازہ اور حلال کھاتا ہے اور یہ مومن کی اہم صفت ہے کہ وہ دوسروں کے مال پر نظر نہیں رکھتا بلکہ حلال کماتا اور کھاتا ہے۔ کسی نے شاہین کے تازہ کھانا سے اس نکتہ کا انکشاف کیا ہے کہ اس سے ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو نئے نئے علوم کی طرف بھی راغب ہونا چاہئے صرف پرانے علوم پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔ کرگس یعنی گدھ دوسروں پر منحصر ہوتا ہے جبکہ مسلمان کو اپنے دست وبازو پر منحصر ہونا چاہئے۔ قرآنی لفظ اس کی طرف اشارہ کے لیے کافی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کرگس کے اندر اچھے اوصاف نہیں ہیں وہ بھی اڑان بھرتا ہے اس کی نگاہ بھی تیز ہے۔ قوتِ مدافعت میں بھی وہ کمتر نہیں لیکن جتنے اوصاف شاہین کے اندر ہیں وہ تمام کے تمام قابلِ اتباع ہیں۔ فقر واستغنا اس کا طرۂ امتیاز ہے۔ توانائی، جہد مسلسل اس کے رگ وپے میں پیوست ہے۔ حریت اس کی شان ہے۔ محنت اس کی جان ہے۔ خلوت پسندی کی صفت سے آشنا ہے۔ پرواز ایسی کہ فلک بھی سر جھکادے۔ رفعت خیال میں ممتاز ہے۔ جذبہ عمل سے پوری طرح لبریز، جرأت تو اس کی علامت ہے۔ سخت کوشش اس کی شناخت ہے۔ حرکت وحرارت اس کا امتیاز ہے۔ شاہین اپنی دنیا کا سچا درویش ہے۔ ہمہ وقت اپنا خیال رکھتا ہے۔ عرفان ذات سے پوری طرح باخبر ہے۔ شاہین کے تصور میں اسلامی فقر کے تمام اوصاف بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اس کے عزائم قابل دید ہیں اس کی محنت قابل داد ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مسلمان غریب تو ہوسکتا ہے لیکن بے غیرت نہیں۔ اس کی بہترین مثال شاہین کے اندر ہے۔ شاہین کی پیٹھ پر کوا بیٹھ کر اس کی گردن پر چونچ مارتا ہے تاہم شاہین جواب نہیں دیتا اور نہ ہی کوے سے لڑتا ہے اس سے بھی نوجوانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ ہر ایک جواب کا اہل نہیں ہوتا اور لڑائی جھگڑا معیوب شئے ہے جس سے پرہیز ہی ضرور ہے۔ شاہین جفاکشی کا امام ہوتا ہے۔ دلیری اس کے خون میں شامل ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ جھوٹی شان والے پرندے اکثر پھڑپھڑاتے ہیں جبکہ شاہین اور باز کی اڑان میں کبھی شور نہیں ہوتا۔ انسان کا مقصد تو تسخیر کائنات ہے۔ قرآن میں جابجا اس طرح کی آیات ملتی ہیں۔ شاہین خود اس کی مثال ہے تسخیر کرنا اس کی فطرت میں ہے۔ شاہین بصارت اور بصیرت دونوں امتیازی اوصاف سے مزین ہے۔ مسلم نوجوانوں کو بھی دونوں وصفوں سے لیس ہونا وقت کا تقاضا بھی ہے اور مسلمانوں کی ضرورت بھی۔ خودی معراج انسانیت ہے۔ اسی طرح پرواز بھی معراج آدمیت ہے۔ شاہین کے پرواز کا تو عالم یہ ہے کہ ؛
؂شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردم ہے اگر تو’ تو نہیں خطرۂ افتاد
مختصر یہ کہ شاہین کو اقبال نے پانچ اوصاف کی بناپر منتخب کیا ہے جیسا کہ ان کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ
‘‘وہ بلند پرواز ہے، تیز نگاہ ہے، خلوت پسند ہے، کسی کا مارا ہوا نہیں کھاتا اور وہ آشیانہ نہیں بناتا’’۔(زندہ رود ص81)
مذکورہ بالا خصوصیات اگر نوجوانوں میں پیدا ہوجائے تو وہ ہر میدان کو سر کرسکتا ہے۔ ہر جگہ کامیابی کا پرچم لہرا سکتا ہے۔ اپنی منزل آپ پیدا کرسکتا ہے۔ عزم وہمت اگر شاہین کی طرح ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو ہر چیز کا حصول آسان ہوسکتا ہے۔ شاہین کی خودداری ضرب المثل ہے جو درحقیقت مومن کا وصف ہے، وہ کہیں نہ کہیں کھوگیا ہے جس کے حصول کے طرف ہماری توجہ ازحد ضروری ہے۔ اولوالعزمی، بلند نظری سے آج ہمیں دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ دور بینی سے ہماری آشنائی نہیں۔ آج مسلم نوجوان بے عملی کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں جبکہ مسلم ہونے کے ناتے انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن میں جہاں بھی ایمان کا ذکر ہے وہیں عمل صالح کا بھی ذکر ہے۔ جس کے بغیر نہ تو دنیا میں ترقی ممکن ہے اور نہ آخرت میں ہماری نجات ممکن۔ پھر بھی ہم خوابِ خرگوش میں پڑے ہوئے ہیں۔ سکون جس کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، اگر کہیں نظر آتا ہے تو وہ مسلمانوں کی زندگی میں۔ جس کی وجہ کر آج دنیا میں ذلیل خوار ہے۔ شاہین سخت کوشش اور عمل کی پہچان ہے وہیں انسان اس سے عاری، تو ترقی کیوں کر ممکن ہوسکتی ہے؟ بے خوفی، دلیری سے مسلمان کا بچہ آج ناواقف ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ آج کی نوجوان نسل گرگٹ اور مکڑی سے ڈرتی ہے۔ خوف سے ہی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں تو شاہین بننا کیوں کر ممکن ہے؟
اگر آج بھی شاہین والی صفت سے مسلم نوجوان لیس ہوجائے تو کوئی کام ناممکن نہیں۔ اقبال بھی یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح شاہین پرندوں کا بادشاہ، پہاڑوں کا شہزادہ ہے اسی طرح مسلمان بھی دنیا کی ایسی قوم بن جائے جن کے قدموں میں ساری خدائی جھُک جائے۔ اور یہ کہنے پر ہر شخص مجبور ہوکہ اس شاہین والی صفت سے مقابلہ ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اقبال کے اس شعر کا مصداق مسلم نوجوان پوری طرح ہوجائے
؂کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
٭٭٭
نوٹ : یہ مقالہ غیر مطبوعہ ہے۔
نام : ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی
لیاقت : ایم۔ اے، ایم فل، پی ۔ایچ ڈی(جے این یو، نئی دہلی)
عہدہ : صدر شعبہ اردو، پٹنہ ویمنس کالج پٹنہ
اضافی صلاحیت : موٹی ویشنل اسپیکر
اضافی حصولیابیاں : پٹنہ یونیورسٹی ایم۔ اے ۔ ٹاپر
جے این یو ایم فل ٹاپر
جے آر ایف
بی پی ایس سی اسسٹنٹ پروفیسر اکزام ٹاپر
موبائل نمبر : 8601086280
ای میل : nayab.zaheer786@gmail.com

Dr Abdul Basit Hamidi
Head Department of Urdu
Email : Nayab.zaheer786@gmail.com